امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن سینیٹر مارک کیلی نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جاری جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
اے بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق امریکی بحریہ کے جنگی پائلٹ مارک کیلی نے کہا کہ ایران جنگ کی قیمت امریکی عوام کو پیٹرول اور اشیائے خور و نوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پاس محدود راستے باقی رہ گئے ہیں جن میں زمینی فوج بھیج کر جنگ کو مزید بڑھانا، مکمل طور پر پیچھے ہٹنا یا معاشی دباؤ بڑھانے کے ساتھ یورپی اتحادیوں کے ساتھ دوبارہ اتحاد مضبوط کرنا شامل ہے۔
مارک کیلی نے خبردار کیا کہ زمینی فوج بھیجنے کی صورت میں ہزاروں امریکی فوجیوں کی جانیں ضائع ہو سکتی ہیں، دوسری جانب گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران یورپی اتحادیوں کے ساتھ امریکی تعلقات بھی کمزور ہوئے ہیں۔
امریکی سینیٹر نے کہا کہ یہ بحران صدر ٹرمپ کی خود کی جانب سے پیدا کردہ صورتِ حال کا نتیجہ ہے، ہر معاملے میں دوسروں سے زیادہ بہتر جاننے کے اصرار نے صدر ٹرمپ کے لیے بہتر راستے محدود کر دیے ہیں۔
مارک کیلی نے ایران پر بمباری کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بعض حملوں میں معصوم ایرانی بچے مارے گئے جو کوئی اچھا منصوبہ نہیں تھا۔
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاشی دباؤ بڑھانا اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات دوبارہ مضبوط کرنا بہتر حکمتِ عملی ہے، بجائے اس کے کہ فوجی کارروائی میں مزید شدت لائی جائے یا امریکی فوجیوں کو ایران میں زمینی کارروائی کے لیے بھیجا جائے۔