سینیٹر شیری رحمٰن نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے واقعے پر حکومتی تحقیقات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی تحقیقات کے لیے پورے ایوان کی کمیٹی بنائی جائے جو 40 دن میں رپورٹ پیش کرے۔
سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے شیری رحمٰن نے کہا کہ جو حکومتی کمیٹیاں بنائی گئی ہیں، ہمیں ان پر اعتماد نہیں، ان کمیٹیوں میں سب لوگ ایک دوسرے کی تحقیقات کر رہے ہیں، ساری تحقیقاتی کمیٹیوں کا کیا بنا، ہمیں بتایا جائے، ورنہ میں کارروائی نہیں چلنے دوں گی۔
انہوں نے کہا کہ جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ انخلاء کے راستے کھلے تھے، سب راستے بند تھے، یہ بھی پوچھا جائے کہ عملہ کہاں تھا، عملہ سو رہا تھا، پمز کے پاس فائر این او سی کیوں نہیں تھا اور انخلاء کے راستے کہاں بند تھے؟
شیری رحمٰن نے کہا کہ سی ڈی اے کی رپورٹس پمز کی رپورٹس کے برعکس ہیں، سی ڈی اے نے متنبہ کیا تھا کہ اسپتال کا فائر سیفٹی نظام درست نہیں، صرف سیکریٹری کو معطل کر دینا کافی نہیں، پمز میں آگ لگنے کے معاملے کا کیا بنا؟ بتایا جائے۔
پیپلز پارٹی کی سینیٹر نے سوال اٹھایا کہ کبھی کسی نے ایئرکنڈیشنر سے چنگاری آتی دیکھی ہے؟ ہم بوڑھے ہو گئے ان میں بیٹھ کر۔
انہوں نے اپنے سابقہ وزارت کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں وزیر تھی جس دن اپنی وزارت میں مداخلت نہ روک سکی، مستعفی ہو گئی تھی، بطور وزیرِ صحت میں نے اپنے شوہر کا پمز میں آپریشن کروایا تھا، میں نے شوہر سے کہا تھا کہ کراچی میں نہیں، آپ کا آپریشن یہیں ہو گا۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ پمز کسی کو سروس دینے کے لائق نہیں، پمز اپنے آپریشنز پولی کلینک اور راولپنڈی کو ریفر کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجھےکہا گیا تھا کہ دروازے اس لیے بند ہیں کیونکہ بچے چوری ہوتے ہیں، میں نے کہا تھا دروازے بند نہ کریں، سیکیورٹی گارڈز لگا دیں۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ عوام شہنشاہی سے تھک گئے ہیں، عوام آپ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے، ایوان سے لوگوں کو امید نہیں کیونکہ یہاں کچھ نہیں ہو رہا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ سینیٹ کی کمیٹی بنائی جائے جو پمز کے معاملے کی تحقیقات کر کے 40 دن میں رپورٹ دے۔