نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد برطانیہ کے 33 شہریوں سمیت ایک ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ لاپتہ برطانوی شہریوں میں ایک 13 سالہ لڑکی اور 14 سالہ لڑکا بھی شامل ہیں۔
نیپالی حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں ہلاکتوں اور لاپتہ افراد کی تعداد سے متعلق اعداد وشمار مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں، جبکہ بڑے پیمانے پر امدادی اور ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ مختلف تازہ اطلاعات میں سیکڑوں افراد کی ہلاکت اور ایک ہزار سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔
نیپال ٹورازم بورڈ کے مطابق متعدد غیر ملکی سیاحوں سے بھی رابطہ منقطع ہے۔ لاپتہ افراد میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں، جن میں برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔
سیاحتی کمپنی الپائن ایکو ٹریک نے بتایا کہ وہ ماؤنٹ کیلاش کے دورے پر جانے والے 12 برطانوی شہریوں کے ایک گروپ سے رابطہ قائم نہیں کر سکی۔ کمپنی کے مطابق لاپتہ افراد کی عمریں 13 سے 65 سال کے درمیان ہیں۔
کمپنی نے امدادی ہیلی کاپٹر کے انتظام کی کوشش بھی کی، تاہم خراب موسمی حالات کے باعث پرواز ممکن نہ ہو سکی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ریسکیو کارروائیوں میں تعاون جاری رکھے گی۔
برطانوی حکومت نے نیپالی حکومت کی امداد کے لیے 50 لاکھ پاؤنڈ کی مدد کی پیشکش کی ہے۔ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے صورتحال کو انتہائی پریشان کن اور تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ متاثرہ افراد اور لاپتہ شہریوں کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گا۔
برطانیہ کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ لاپتہ برطانوی شہریوں سے متعلق نیپالی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور علاقے میں موجود برطانوی شہریوں کو مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے اور بدلتی صورتحال سے باخبر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔