پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ پمز اسپتال کی ایمرجنسی کا دروازہ بند تھا لوگ کھڑکیاں توڑ کر اندر گئے۔
پمز اسپتال کے بابر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری اطلاع کے مطابق ڈاکٹرز موجود نہیں تھے، نومولود جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔
شیری رحمٰن کا کہنا ہے کہ ہم سیاست کرنے نہیں آئے ہماری ذمے داری ہے واقعے پر پوچھا جائے، سیاست چمکانے نہیں آئے، سانحات کی روک تھام کے لیے احتساب ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سانحے پر پورا ملک خون کے آنسو رو رہا ہے، جو وزیر ذمے دار ہے اسے خود استعفیٰ دینا چاہیے، پچھلے سال بھی ہم نے رپورٹ مانگی تھی، ہمیں کوئی رپورٹ نہیں دی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ فائر بریگیڈ کے لیے گیٹ نہیں کھولا گیا، فائر ٹینکس میں پانی نہیں تھا، ڈاکٹرز نہیں تھے، گیٹ بند تھے، عوام کی طرف سے بھی سوال پوچھیں گے۔
واضح رہے کہ آج صبح اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 15 نومولود جاں بحق ہوگئے۔
پمز اسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے وقت نرسری میں 16 بچے تھے، آگ لگنے سے 15 بچے جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک کو بچا لیا گیا۔