بڑھا ہوا پیٹ یا توند، کمر کا گھیر اور جسم میں چربی کی تقسیم دل کی صحت کے بارے میں زیادہ مفید معلومات فراہم کر سکتی ہے۔
کراس کوہورٹ کولیبوریشن کے محققین نے 15 طویل مدتی طبی مطالعات میں شامل تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا، ان افراد کی تقریباً 20 برس تک طبی نگرانی کی گئی۔
جرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی میں شائع ہونے والے نتائج کے مطابق بی ایم آئی کی بنیاد پر معمول کے وزن یا زائد وزن کی کیٹیگری میں آنے والے بعض افراد کے پیٹ میں چربی کی مقدار نمایاں تھی۔
محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ جن افراد کا پیٹ بڑھا ہوا تھا، یا جن کی کمر کا گھیر زیادہ تھا، ان میں مختلف قلبی بیماریوں اور موت کا خطرہ عمومی طور پر 15 سے 50 فیصد زیادہ تھا۔
بی ایم آئی پیٹ کی چربی کے خطرے کی مکمل عکاسی نہیں کرتا
ماہرین کے مطابق بی ایم آئی صرف کسی شخص کے وزن اور قد کا تقابل کرتا ہے، تاہم یہ نہیں بتاتا کہ جسم میں چربی کہاں جمع ہے۔
پیٹ کے اندرونی حصے میں، اندرونی اعضا کے گرد جمع ہونے والی چربی خاص طور پر نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس کا تعلق جسم میں سوزش، انسولین کے خلاف مزاحمت اور خون کی شریانوں کو پہنچنے والے نقصان سے جوڑا گیا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ جسم میں چربی کی تقسیم کی پیمائش، صرف بی ایم آئی پر انحصار کرنے کے مقابلے میں دل کی بیماری کے خطرے کا زیادہ جامع جائزہ فراہم کر سکتی ہے۔
تحقیق میں مختلف قلبی امراض کا جائزہ
تحقیق میں مختلف قلبی نتائج کا جائزہ لیا گیا، جن میں دل کا دورہ، فالج، دل کی ناکامی، ایٹریئل فِبریلیشن اور قلبی بیماری کے باعث ہونے والی اموات شامل تھیں۔
نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ نسبتاً صحت مند بی ایم آئی رکھنے والے افراد بھی اگر پیٹ میں زیادہ چربی رکھتے ہوں تو انہیں قلبی بیماریوں کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
محققین نے تحقیق کی حدود بھی واضح کر دیں
محققین نے تحقیق کی بعض حدود کو بھی تسلیم کیا، ان کے پاس شرکاء کی جسمانی سرگرمی، خوراک اور موٹاپے سے متعلق جینیاتی خطرات کے بارے میں مکمل معلومات موجود نہیں تھیں۔
چنانچہ تحقیق سے یہ مکمل طور پر طے نہیں کیا جا سکا کہ وقت کے ساتھ پیٹ کی چربی میں ہونے والی تبدیلیاں قلبی بیماری کے خطرے کو کس طرح متاثر کر سکتی ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کیلئے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔