بھارتی فضائیہ کے سابق نائب سربراہ ایئر مارشل ناگیش کپور نے کہا ہے کہ بھارت کا تیار کردہ تیجس Mk-2 جب 2030ء کی دہائی کے وسط میں بڑی تعداد میں فضائیہ میں شامل ہونا شروع ہو گا تو ممکن ہے کہ اگلے محاذ پر اس کی عملی افادیت محدود ہو۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق بھارتی فضائیہ کے سابق نائب سربراہ نے مقامی طور پر تیار کیے جانے والے تیجس جنگی طیارے کے منصوبے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
دورانِ انٹرویو ان سے سوال پوچھا گیا کہ کیا بھارت کے لیے 2035ء میں چوتھی جنریشن کا جنگی طیارہ رکھنا معنی رکھتا ہے، جبکہ چین چھٹی جنریشن کے پلیٹ فارم کی جانب بڑھ چکا ہو گا اور پاکستان پانچویں جنریشن کے طیاروں پر غور کر رہا ہے، جس پر ایئر مارشل کپور نے دوٹوک جواب دیا کہ نہیں، عملی طور پر بالکل نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ایف-22 اور چینی جے-20 جیسے پانچویں جنریشن کے لڑاکا طیاروں میں اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، سینسر فیوژن اور ہتھیاروں کو طیارے کے اندر رکھنے کی صلاحیت شامل ہوتی ہے، جس کے باعث انہیں ریڈار پر تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے۔
چین کے جے-36 اور جے-50 جیسے چھٹی جنریشن کے لڑاکا طیارے اسی اسٹیلتھ بنیاد کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مصنوعی ذہانت پر مبنی خودمختاری، ڈرون وِنگ مین اور سسٹم آف سسٹمز کے تصور کو شامل کرتے ہیں، جس میں لڑاکا طیارہ محض ایک الگ پلیٹ فارم کے بجائے ایک مربوط نیٹ ورک کے نوڈ کے طور پر کام کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس فی الحال پانچویں یا چھٹی جنریشن کا کوئی پلیٹ فارم موجود نہیں، بعض اندازوں کے مطابق چین 2030ء تک پانچویں نسل کے 500 جے-20 لڑاکا طیارے تعینات کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔