جنوبی کوریا کے گلوکار سائی کا مشہور گانا ’گینگنم اسٹائل‘ 15 جولائی 2012ء کو ریلیز ہوا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔
گانے کی منفرد ویڈیو، گھوڑے کی سواری جیسا ڈانس اور دلکش دھن نے اسے عالمی سطح پر غیر معمولی شہرت دلوائی، ’گینگنم اسٹائل‘ کی ویڈیو یوٹیوب پر 1 ارب ویوز حاصل کرنے والی پہلی ویڈیو بھی بنی۔
تقریباً 14 سال بعد اس کے ویوز کی تعداد 6 ارب کے قریب پہنچ چکی ہے جس کے باعث اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی ایک بڑا سوال بن گئی ہے۔
یوٹیوب کی جانب سے 2013ء میں بتایا گیا تھا کہ تقریباً 1.2 ارب ویوز کے ساتھ ’گینگنم اسٹائل‘ سے 8 ملین ڈالرز سے زیادہ اشتہاری آمدنی حاصل ہوئی تھی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ایک اندازے سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موجودہ ویوز اور موسیقی کی ویڈیوز کے عمومی اشتہاری نرخوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے گانے کے حقوق رکھنے والوں نے صرف یوٹیوب کے اشتہارات سے گزشتہ برسوں کے دوران کئی کروڑ ڈالرز کمائے ہیں۔
اس میں پیروڈیز اور دیگر ویڈیوز میں گانے کے استعمال سے حاصل ہونے والی آمدنی شامل نہیں۔
رپورٹ کے مطابق یوٹیوب کی آمدنی کا حتمی تخمینہ لگانا مشکل ہے کیونکہ اشتہارات کی قیمت مختلف عوامل کے باعث بدلتی رہتی ہے، مجموعی آمدنی میں یوٹیوب اشتہارات کے علاوہ گانے کی فروخت، لائسنسنگ، تشہیری معاہدوں اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی رقم بھی شامل ہو سکتی ہے۔
گانے کا عالمی اثر
واضح رہے کہ سانگ ٹریک ’گینگنم اسٹائل‘ نے جنوبی کورین گلوکار سائی کو عالمی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا تھا اور یہ ثابت کیا کہ انگریزی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں گایا گیا گانا بھی دنیا بھر کے مرکزی موسیقی کے منظر نامے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔
اس گانے کی کامیابی نے موسیقی کی صنعت میں آن لائن ویوز اور ڈیجیٹل سامعین کی اہمیت بھی نمایاں کی جس کے بعد بل بورڈ نے اپنے چارٹ کے طریقۂ کار میں اسٹریمنگ اور یوٹیوب کے اعداد و شمار کو بھی شامل کیا۔