ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ فضائی عملے، خصوصاً پائلٹس اور فلائٹ اٹینڈنٹس میں تابکاری سے متعلق کینسر کا خطرہ دیگر پیشوں کے مقابلے میں زیادہ ہو سکتا ہے۔
ہارورڈ میڈیکل اسکول کے ڈاکٹر وشال پٹیل کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق امریکی طبی جریدے جاما انٹرنل میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔
تحقیق کے دوران 2020ء سے 2024ء کے درمیان امریکا میں جاری کیے گئے 12.7 ملین سے زائد ڈیتھ سرٹیفکیٹس کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 503 مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔
تحقیق کے مطابق فلائٹ اٹینڈنٹس میں عام کام کرنے والی آبادی کے مقابلے میں تابکاری سے متعلق کینسر سے موت کے امکانات تقریباً 50 فیصد زیادہ پائے گئے، جبکہ پائلٹس میں یہ شرح 36 فیصد زیادہ تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق فلائٹ اٹینڈنٹس کی تقریباً 6.9 فیصد اموات تابکاری سے منسلک کینسر کے باعث ہوئیں، یعنی تقریباً ہر 14 میں سے 1 موت، پائلٹس میں یہ شرح 6.7 فیصد رہی، یہ شرح نیوکلیئر ٹیکنالوجسٹس سے بھی زیادہ تھی، جو فہرست میں 12 ویں نمبر پر رہے اور پیشہ ورانہ طور پر تابکاری کا سامنا کرتے ہیں۔
تحقیق میں چھاتی کے کینسر، پروسٹیٹ کینسر، میلانوما اور لیوکیمیا کی بعض اقسام سمیت ایسے کینسر کا جائزہ لیا گیا جن کا تابکاری سے تعلق ثابت ہو چکا ہے، تاہم فضائی عملے میں ان کینسر کے علاوہ دیگر اقسام کے کینسر سے غیر معمولی طور پر زیادہ اموات کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق کمرشل طیارے عموماً 30 ہزار فٹ سے زائد بلندی پر پرواز کرتے ہیں، جہاں فضا کی حفاظتی تہہ نسبتاً کم ہونے کے باعث مسافروں اور فضائی عملے کو زمینی سطح کے مقابلے میں زیادہ کائناتی تابکاری کا سامنا ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اوسط مسافر جو سالانہ تقریباً 10 مرتبہ امریکا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک آنے جانے کی پروازیں کرے، اسے تقریباً 0.4 ملی سیورٹ تابکاری کا سامنا ہوتا ہے، جبکہ فضائی عملے کو مسلسل پروازوں کے باعث زیادہ ایکسپوژر کا سامنا ہو سکتا ہے۔
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) فضائی عملے کو آئنائزنگ ریڈی ایشن سے پیشہ ورانہ طور پر متاثر ہونے والے افراد میں شمار کرتی ہے، تاہم امریکا میں پائلٹس اور فلائٹ اٹینڈنٹس کے لیے تابکاری کی مقدار کی نگرانی یا لازمی حد مقرر کرنے کی وفاقی شرط موجود نہیں۔
اس کے برعکس جوہری شعبے کے کارکنوں اور یورپ میں فضائی عملے کے لیے تابکاری سے متعلق بعض حفاظتی پابندیاں موجود ہیں۔
تحقیق اور ماہرین کی تجاویز کے مطابق فضائی عملے کو سالانہ جلد کا معائنہ کروانا چاہیے، جبکہ خواتین فلائٹ اٹینڈنٹس اور پائلٹس کے لیے کم عمری میں میموگرام شروع کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔