Home اہم خبریںبرطانوی فوجی کالج میں خواتین کیساتھ جنسی زیادتی کا بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا

برطانوی فوجی کالج میں خواتین کیساتھ جنسی زیادتی کا بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا

by 93 News
0 comments
—فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

برطانوی فوجی تربیتی کالج کی کم عمر خواتین اہلکاروں کی جانب سے سینئرز پر جنسی زیادتی، ہراسانی اور بدسلوکی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق شمالی یارکشائر کے علاقے ہاروگیٹ میں قائم فوجی تربیتی ادارے میں زیرِ تربیت رہنے والی 4 خواتین نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمیں دورانِ تربیت جنسی تشدد اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

فوجی تربیت حاصل کرنے والی خواتین کے مطابق یہ واقعات اس وقت پیش آئے جب ان کی عمریں 17 سال تھیں۔ 

بی بی سی کے مطابق ایک خاتون نے الزام لگایا ہے کہ مجھے کئی ساتھی فوجی اہلکاروں نے کئی گھنٹوں تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بعد میں نے فوج چھوڑ دی۔

متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ ادارے میں خواتین کے خلاف نفرت، جنسی رویوں اور تشدد کا ماحول موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق شمالی یارکشائر پولیس کو ایک سال کے دوران اس فوجی کالج سے متعلق جنسی جرائم کی 16 شکایات موصول ہوئیں جن میں جنسی حملے، جاسوسی اور غیر اخلاقی حرکات کے الزامات شامل ہیں۔

برطانوی وزارتِ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2018ء سے جون 2025ء تک ادارے میں نامناسب جنسی رویوں کی 176 شکایات درج ہوئیں، ان میں 32 الزامات مستقل عملے کے سینئر ارکان جبکہ 144 شکایات زیرِ تربیت نوجوان فوجیوں کے خلاف تھیں۔

ایک متاثرہ خاتون نے بتایا کہ میرے ساتھی فوجیوں نے مجھے ایک کمرے میں بند کر کے میرے ساتھ زبردستی کی اور مجھے کئی گھنٹوں تک قید رکھا۔

ایک اور خاتون کی والدہ نے بتایا کہ میری بیٹی کو کالج میں مسلسل جنسی ہراسانی کا سامنا رہا، یہاں تک کہ کمرے کا تالا خراب ہونے کے باعث رات میں میری بیٹی اپنے کمرے کے دروازے کے سامنے سو کر خود کو محفوظ رکھتی تھی۔

بی بی سی کے مطابق متاثرہ خواتین نے الزام لگایا ہے کہ بعض تربیتی افسران بھی خواتین کے بارے میں تضحیک آمیز اور توہین آمیز زبان استعمال کرتے تھے۔

ان کے مطابق بعض افسران خواتین کی ظاہری شکل کو نمبر دیتے اور نامناسب تبصرے کرتے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 5 سال کے دوران اس فوجی ادارے کے چند بالغ تربیتی اہلکاروں کو جسمانی اور جنسی تشدد کے مقدمات میں فوجی عدالتوں سے سزائیں بھی مل چکی ہیں۔

اس اسکینڈل کے سامنے آنے پر برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ایما لیویل نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی فوری اور آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں، اگر ایسا معاملہ کسی اور ادارے میں ہوتا تو اسے بند کر کے مکمل تحقیقات کی جاتیں۔

رپورٹ کے مطابق برطانوی فوج نے ان تمام الزامات کو انتہائی سنگین اور تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجرمانہ اور ناقابلِ قبول رویوں کی فوج میں کوئی جگہ نہیں، متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اصلاحات کی گئی ہیں اور شکایات کے لیے آزاد نظام موجود ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی فوج میں خواتین کے تحفظ سے متعلق خدشات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

ایک سرکاری جائزے میں بتایا گیا کہ بڑی تعداد میں خواتین اہلکاروں کو جنسی نوعیت کے نامناسب رویوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

You may also like

Leave a Comment

Soledad is the Best Newspaper and Magazine WordPress Theme with tons of options and demos ready to import. This theme is perfect for blogs and excellent for online stores, news, magazine or review sites.

Buy Soledad now!

Edtior's Picks

Latest Articles

u00a92022u00a0Soledad.u00a0All Right Reserved. Designed and Developed byu00a0Penci Design.

Are you sure want to unlock this post?
Unlock left : 0
Are you sure want to cancel subscription?
-
00:00
00:00
Update Required Flash plugin
-
00:00
00:00