Home انٹرٹینمنٹعدالت کا ویب سائٹس سے تبو سے متعلق قابلِ اعتراض فحش مواد ہٹانے کا حکم

عدالت کا ویب سائٹس سے تبو سے متعلق قابلِ اعتراض فحش مواد ہٹانے کا حکم

by 93 News
0 comments
بھارتی اداکارہ تبو—فائل فوٹو

بھارتی اداکارہ تبو کو شخصیت کے حقوق سے متعلق مقدمے میں دہلی ہائی کورٹ سے ریلیف مل گیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دہلی ہائی کورٹ نے متعدد ویب سائٹس اور آن لائن پلیٹ فارمز کو تبو کی جانب سے قابلِ اعتراض قرار دیے گئے مواد کو ہٹانے کا حکم دیا۔

 اداکارہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ مواد میری شخصیت کے حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ ہتک آمیز اور فحش نوعیت کا بھی ہے۔

جسٹس جیوتی سنگھ نے سینئر وکیل سواتی سوکمار کی جانب سے تبو کی نمائندگی کے دوران مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، ای کامرس لسٹنگز اور ویب سائٹس پر موجود قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کی ہدایت کی۔

سماعت کے دوران تبو کی فلموں کے مختلف مناظر بھی زیرِ بحث آئے۔

 اداکارہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض ویڈیو کلپس کو ایسے سرچ الفاظ کے ساتھ فروغ دیا جا رہا ہے جن میں اداکارہ کو نامناسب انداز میں پیش کیا گیا، جبکہ کچھ مناظر کی رفتار کم کر کے یا ان کے عنوانات تبدیل کرکے انہیں جنسی نوعیت کا تاثر دیا گیا۔

وکیل سواتی سوکمار نے عدالت کو بتایا کہ مواد کی نوعیت اور اس کا بار بار نئے اکاؤنٹس اور پوسٹس کے ذریعے سامنے آنا عام کاپی رائٹ یا خلاف ورزی کے معاملے سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔

سماعت کے دوران ایک آن لائن پلیٹ فارم کے وکیل نے اسی روز زیرِ سماعت ایک اور شخصیت کے حقوق کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات شخصیت کے حقوق سے متعلق مقدمات کے ذریعے مبینہ ہتک آمیز مواد کو ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ اس معاملے میں اٹھنے والے قانونی سوالات موجودہ کیس تک محدود نہیں ہیں۔ 

جسٹس جیوتی سنگھ نے کہا کہ بعض انتہائی نقصان دہ مواد کی صورت میں ایسا طریقہ کار درکار ہے جس کے تحت اسے انٹرنیٹ پر آنے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔

عدالت نے آن لائن پلیٹ فارمز کی جانب سے موجودہ حفاظتی اقدامات، خودکار مواد کی شناخت کے نظام، ایپ میں شکایات درج کرانے کے طریقہ کار اور انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز کے تحت شکایات کے ازالے کے نظام کا بھی جائزہ لیا۔

جسٹس جیوتی سنگھ نے کہا کہ اصل مسئلہ پالیسی بنانے یا اس پر عمل درآمد کا نہیں بلکہ ایسا مؤثر نظام وضع کرنے کا ہے جس کے ذریعے قابلِ اعتراض مواد کو ابتداء ہی میں آن لائن آنے سے روکا جا سکے۔

عدالت نے کہا کہ ان وسیع قانونی معاملات میں معاونت کے لیے ایمی کس کیوری مقرر کیا جائے گا۔

 عدالت کے مطابق اس عمل کے دوران ایسے ضمنی قانونی معاملات کی بھی نشاندہی کی جائے گی جن پر بعد میں تفصیل سے غور کیا جائے گا۔

عدالت نے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایسے مقدمات سے نمٹنے کے لیے ایک معیاری طریقہ کار (SOP) وضع کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

عدالت کی جانب سے کیس کی مزید سماعت 7 دسمبر کو مقرر کی گئی ہے۔

You may also like

Leave a Comment

Soledad is the Best Newspaper and Magazine WordPress Theme with tons of options and demos ready to import. This theme is perfect for blogs and excellent for online stores, news, magazine or review sites.

Buy Soledad now!

Edtior's Picks

Latest Articles

u00a92022u00a0Soledad.u00a0All Right Reserved. Designed and Developed byu00a0Penci Design.

Are you sure want to unlock this post?
Unlock left : 0
Are you sure want to cancel subscription?
-
00:00
00:00
Update Required Flash plugin
-
00:00
00:00