اسرائیل کی ایماء پر ایران کے ساتھ جنگ اور بڑھتی مہنگائی کے نتیجے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز اور ادارہ اِپسوس کی مشترکہ نئی رائے شماری کے مطابق صدر ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی کی مقبولیت کم ہو کر 35 فیصد رہ گئی جبکہ معاشی معاملات پر بھی عوام کا اعتماد کمزور پڑنے لگا ہے۔
رائے شماری کے مطابق کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے معیشت کے معاملے پر عوامی اعتماد حاصل کرنے میں پہلی بار گزشتہ 10 برس کے دوران ریپبلکن پارٹی پر سبقت حاصل کر لی۔
رائے شماری میں رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 42 فیصد نے کہا ہے کہ اگر آج انتخاب ہوں تو ہم ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار کی حمایت کریں گے جبکہ 37 فیصد نے ریپبلکن پارٹی کو ترجیح دی۔
رائے شماری کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی کے سبب معیشت سنبھالنے کے معاملے میں بھی ووٹرز نے ڈیموکریٹک پارٹی پر زیادہ اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران جنگ کے بعد توانائی کی بڑھتی قیمتوں سمیت معاشی مسائل نے ریپبلکن پارٹی کی برتری کو متاثر کیا ہے جس کے اثرات نومبر میں ہونے والے وسطِ مدتی انتخابات پر پڑ سکتے ہیں جہاں آئندہ 2 برس کے لیے کانگریس کا کنٹرول داؤ پر ہو گا۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق رائے شماری بدھ سے پیر تک کی گئی جس میں 4 ہزار 505 امریکی بالغ افراد نے حصہ لیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس رائے شماری کے نتائج میں معمولی غلطی کی گنجائش بھی موجود ہے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رائے شماری مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ میری حقیقی مقبولیت میڈیا کی جانب سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔