Home اہم خبریںروزمرہ کے کاموں کے دوران سانس پھولنے کو نظر انداز کیوں نہیں کرنا چاہیے؟

روزمرہ کے کاموں کے دوران سانس پھولنے کو نظر انداز کیوں نہیں کرنا چاہیے؟

by 93 News
0 comments
—فائل فوٹو

طبی ماہرین کے مطابق مختصر فاصلہ طے کرنے، سیڑھیاں چڑھنے یا روزمرہ کے معمولی کام انجام دینے کے دوران سانس پھولنے کو محض تھکن سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ کسی اندرونی طبی مسئلے کی علامت ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماضی میں سانس پھولنے کی شکایت زیادہ تر عمر رسیدہ افراد میں عام سمجھی جاتی تھی، تاہم اب نوجوانوں میں بھی یہ مسئلہ بڑھ رہا ہے، جس کی ایک وجہ غیر فعال طرزِ زندگی اور جسمانی فٹنس میں کمی ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بہت سے افراد طویل وقت تک ڈیسک پر بیٹھے رہتے ہیں یا موبائل فون اور کمپیوٹر کا استعمال کرتے ہیں اور جسمانی سرگرمی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، وقت گزرنے کے ساتھ جسمانی فٹنس میں کمی کے باعث معمولی جسمانی سرگرمی بھی زیادہ مشکل محسوس ہوسکتی ہے اور سانس پھولنے کی شکایت ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق معمولی جسمانی سرگرمی کے دوران مسلسل سانس پھولنے کی شکایت دل، پھیپھڑوں، گردوں یا جگر سے متعلق مختلف بیماریوں کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سانس پھولنے کے ساتھ چہرے یا آنکھوں کے گرد سوجن جگر کے مسائل کی نشاندہی کرسکتی ہے، جبکہ ٹانگوں میں سوجن گردوں کی بیماری کی علامت ہوسکتی ہے، اسی طرح ہاتھوں، پیروں اور چہرے پر بیک وقت سوجن دل سے متعلق مسائل سے بھی منسلک ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹروں نے زور دیا ہے کہ ایسی علامات کی صورت میں خود تشخیص یا خود سے ادویات استعمال کرنے کے بجائے طبی معائنہ کروانا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق سانس پھولنے کی دیگر وجوہات میں خون کی کمی، جسمانی فٹنس میں کمی یا عمومی کمزوری، دمہ، موسمی الرجی، نزلہ زکام اور کھانسی جیسی سانس کی بیماریاں، پھیپھڑوں کی دائمی بیماریاں اور طویل عرصے تک تمباکو نوشی شامل ہیں۔

چونکہ سانس پھولنے کی کئی ممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں، اس لیے اصل وجہ جاننے کے لیے مناسب طبی معائنہ ضروری ہے۔

بعض صورتوں میں سانس لینے میں دشواری کا تعلق نظامِ ہاضمہ کے مسائل سے بھی ہوسکتا ہے۔

ماہرینِ صحت سانس پھولنے کے خطرے کو کم کرنے اور مجموعی صحت بہتر بنانے کے لیے متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور کھانے کے بعد ہلکی چہل قدمی کی تجویز دیتے ہیں، اس سے نظامِ ہاضمہ بہتر بنانے کے ساتھ جسمانی اور قلبی صحت برقرار رکھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق اگر سانس پھولنے کی شکایت مسلسل برقرار رہے، وقت کے ساتھ بڑھتی جائے یا اس کے ساتھ سینے میں درد، چکر آنا، بے ہوشی، سوجن یا دیگر تشویشناک علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔


نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

You may also like

Leave a Comment

Soledad is the Best Newspaper and Magazine WordPress Theme with tons of options and demos ready to import. This theme is perfect for blogs and excellent for online stores, news, magazine or review sites.

Buy Soledad now!

Edtior's Picks

Latest Articles

u00a92022u00a0Soledad.u00a0All Right Reserved. Designed and Developed byu00a0Penci Design.

Are you sure want to unlock this post?
Unlock left : 0
Are you sure want to cancel subscription?
-
00:00
00:00
Update Required Flash plugin
-
00:00
00:00