بھارتی ٹیلی ویژن اداکار، مصنف اور پروڈیوسر راجہ چوہدری نے اپنی سابق اہلیہ شویتا تیواری کے اس دعوے پر خاموشی توڑ دی جس میں انہوں نے اپنی بیٹی پلک تیواری کے بجائے 93 لاکھ روپے مالیت کا فلیٹ قبول کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔
دونوں کے درمیان 9 سال تک ازدواجی رشتہ رہا جس کے بعد طلاق کے معاہدے کے تحت شویتا تیواری نے انہیں 93 لاکھ روپے مالیت کا ایک بیڈ روم کا فلیٹ دیا تھا۔ اس کے بدلے میں راجہ نے طلاق کے کاغذات پر دستخط کرنے اور اپنی بیٹی پلک تیواری کی تحویل کا مطالبہ نہ کرنے پر رضامندی دی تھی۔
راجہ چوہدری نے کہا کہ اس وقت وہ اس پوری صورتحال سے تھک چکے تھے، اسی لیے انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ شویتا اس انتظام پر خوشی سے راضی ہوئی تھیں، لیکن بعد میں انہوں نے اسی معاملے کو اپنے حق میں پیش کرتے ہوئے اس کی مختلف تشریح کی۔
شویتا تیواری نے اس وقت میڈیا کو بتایا تھا کہ قانونی ٹیم نے ابتدائی طور پر تجویز دی تھی کہ یہ جائیداد راجہ چوہدری اور پلک تیواری کی مشترکہ ملکیت ہوگی۔ تاہم، مبینہ طور پر راجہ نے اصرار کیا کہ جائیداد صرف ان کے نام پر کی جائے، جس پر شویتا حیران رہ گئیں۔ ان کے مطابق راجہ نے کہا میں جائیداد کے لیے اپنی بیٹی کی بھی قربانی دے سکتا ہوں۔ مجھے فلیٹ دے دو اور میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔
51 سالہ راجہ چوہدری، جنھوں نے زیادہ تر بھوجپوری سنیما میں کام کیا اور 2008 میں رئیلٹی شو بگ باس کے پہلے رنر اپ قرار پائے، نے سدھارتھ کنان سے گفتگو میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا 2007 میں ہم الگ ہوگئے، فیملی کورٹ میں کیس 2012 تک چلا مجھے یاد پڑتا ہے کہ وہ شاید دس بار بھی کورٹ آئی ہوگی جبکہ میں ہر تاریخ پر کورٹ جاتا تھا، عدالت نے مجھے پلک سے ملنے کی اجازت دی لیکن شویتا اسے کبھی نہ لائی۔
راجہ نے مزید انکشاف کیا کہ فلیٹ کی ڈاؤن پیمنٹ ان کے والد نے کی تھی، جبکہ وہ اور شویتا اس کی ماہانہ قسطیں ادا کر رہے تھے اور یہ فلیٹ 9 لاکھ روپے میں خریدا گیا تھا۔ اس لیے میں نے کہا کہ یہ والا فلیٹ تم مجھے دے دو اور اپنے بچے سمیت جو بھی تمہیں چاہیے وہ سب اپنے پاس رکھو۔ بس میری زندگی سے دور ہو جاؤ ۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں تو شویتا خوشی خوشی تیار ہوگئی لیکن بعد میں اس نے اس پورے معاملے کو اپنے حق میں پیش کرنا شروع کر دیا۔ راجہ کا کہنا تھا کہ شویتا کا یہ دعویٰ تب درست ہوتا اگر وہ ان کی مشترکہ تمام جائیداد پر قبضہ کر لیتے۔ تاہم میں نے تو ان مشترکہ اثاثوں میں اپنے حقوق چھوڑ دیے، حالانکہ ان میں میری بھی سرمایہ کاری بھی شامل تھی۔