Home اہم خبریںانڈے کھانے سے دل کی بے قاعدہ دھڑکن میں اضافہ اور فالج کا امکان بڑھ سکتا ہے، تحقیق

انڈے کھانے سے دل کی بے قاعدہ دھڑکن میں اضافہ اور فالج کا امکان بڑھ سکتا ہے، تحقیق

by 93 News
0 comments

ایک نئی تحقیق کے مطابق انڈے کھانے سے دل کی ایک خطرناک بے قاعدہ دھڑکن (جسے طبی زبان میں ایٹریل فبریلیشن کہا جاتا ہے) کے خطرے میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں فالج (اسٹروک) کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

سائنسدانوں نے خون میں پائے جانے والے ایک ایسے مرکب اور ایٹریل فبریلیشن کے درمیان تعلق دریافت کیا ہے، جو انڈے کی زردی، گائے کے گوشت (بیف اسٹیک) اور دیگر روزمرہ کی بعض غذاؤں کے استعمال کے بعد جسم میں پیدا ہوتا ہے۔

ایٹریل فبریلیشن ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے، جو آگے چل کر دل کی کمزوری (ہارٹ فیل) اور فالج کا سبب بن سکتی ہے۔

امریکہ کے کلیولینڈ کلینک کے ماہرین کے مطابق اس بیماری میں مبتلا افراد کے خون میں ٹرائی میتھائل امائن این آکسائیڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ یہ مادہ آنتوں میں ہاضمے کے دوران بعض مخصوص غذائی اجزاء کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔

ٹرائی میتھائل امائن این آکسائیڈ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جسم کارنیٹین اور کولین جیسے غذائی اجزاء کو ہضم کرتا ہے۔ یہ اجزاء بیف اسٹیک، کلیجی، اور انڈے کی زردی جیسی غذاؤں میں پائے جاتے ہیں۔

جرنل آف کلینیکل انویسٹیگیشن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں سائنس دانوں نے امریکہ کے 5,000 افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن افراد کے خون میں ٹی اے ایم او کی سطح زیادہ تھی، ان میں ایٹریل فبریلیشن ہونے کے امکانات ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد زیادہ تھے جن کے خون میں اس مادے کی سطح سب سے کم تھی۔

یہ تعلق اس وقت بھی برقرار رہا جب سائنسدانوں نے دیگر خطرے کے عوامل، جیسے بڑھتی عمر، ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپا کو بھی مدنظر رکھا۔ برطانیہ میں تقریباً 15 لاکھ افراد ایٹریل فبریلیشن میں مبتلا ہیں۔ برٹش ہارٹ فاؤنڈیشن کے مطابق اس بیماری میں مبتلا افراد کو فالج کا خطرہ عام لوگوں کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہوتا ہے۔

کلیولینڈ کلینک کے الیکٹرو فزیالوجسٹ اور اس تحقیق کے سینئر مصنف رابرٹ کوئتھ کے مطابق ایٹریل فبریلیشن کے موجودہ زیادہ تر علاج اس بیماری کو قابو میں رکھنے پر توجہ دیتے ہیں، لیکن ہماری تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ خوراک کے ذریعے بیماری کے آغاز سے پہلے ہی اسے روکا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن چوہوں کو ایسی خوراک دی گئی جس سے ان کے جسم میں ٹی ایم اے او کی مقدار زیادہ ہو گئی، ان میں ایٹریل فبریلیشن عام خوراک کھانے والے چوہوں کے مقابلے میں زیادہ جلد پیدا ہو گئی۔

محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسا طریقہ علاج تیار کیا جاسکتا ہے جو آنتوں میں موجود بیکٹیریا کو کولین کو ٹی ایم اے او میں تبدیل کرنے سے روک دیں، جس سے ایٹریل فبریلیشن کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

You may also like

Leave a Comment

Soledad is the Best Newspaper and Magazine WordPress Theme with tons of options and demos ready to import. This theme is perfect for blogs and excellent for online stores, news, magazine or review sites.

Buy Soledad now!

Edtior's Picks

Latest Articles

u00a92022u00a0Soledad.u00a0All Right Reserved. Designed and Developed byu00a0Penci Design.

Are you sure want to unlock this post?
Unlock left : 0
Are you sure want to cancel subscription?
-
00:00
00:00
Update Required Flash plugin
-
00:00
00:00