بالی ووڈ اداکار عامر خان کو موصول ہونے والی دھمکی آمیز آڈیو کے معاملے میں تحقیقات کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے.
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ آڈیو پیغام بھیجنے کے لیے مبینہ طور پر سویڈن میں قائم وی پی این (VPN) استعمال کیا گیا۔
پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ وائرل آڈیو پیغام کو مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ سے جوڑا جا رہا ہے۔
آڈیو میں خود کو آرزو بشنوئی ظاہر کرنے والے شخص نے عامر خان پر لو جہاد کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بھارتی ثقافت اور سناتن دھرم کے خلاف ہے۔
آڈیو پیغام میں عامر خان کو سبق سکھانے کی دھمکی بھی دی گئی۔
ذرائع کے مطابق پولیس پیغام بھیجنے والے شخص کی شناخت کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔
ابتدائی تفتیش میں آئی پی ایڈریس سویڈن سے ٹریس کیا گیا، تاہم حکام کو شبہ ہے کہ اصل مقام چھپانے کے لیے وی پی این اور ٹور (Tor) براؤزر استعمال کیا گیا۔
عامر خان کو 18 جولائی کو مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ سے منسلک افراد کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے دھمکی موصول ہوئی تھی، جس میں ان پر لو جہاد کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اس دھمکی کو عامر خان کی اپنی دیرینہ ساتھی گوری سپراٹ سے حالیہ شادی سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔
دونوں نے 5 جولائی کو ممبئی میں ایک نجی تقریب میں شادی کی تھی، جو عامر خان کی تیسری شادی ہے۔