وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے میں ایک وفاق اور 4 صوبوں کا نظام مؤثر انداز میں نہیں چل رہا، پاکستان دنیا کے 180 سے زائد ممالک سے بڑا ملک ہے، ملک میں مزید ایڈمنسٹریٹو یونٹ بنانے کی ضرورت ہے۔
ملتان میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کرنے کا مؤثر نظام موجود نہیں جبکہ ملک کی شرحِ افزائشِ آبادی 3.5 فیصد اور گروتھ ریٹ 2.5 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال 11 ہزار ماؤں کی اموات ہوتی ہیں جو انتہائی تشویش ناک ہے۔
وفاقی وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان کو 9 لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے جبکہ دنیا پاکستان سے 25 لاکھ نرسوں کی طلب کر رہی ہے، نوجوانوں کو ہنر سکھا کر بیرونِ ملک روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملک کے لیے زرِ مبادلہ کما سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ادویات کی قیمتیں کم یا زیادہ کرنا وفاقی وزیرِ صحت کا اختیار نہیں بلکہ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کرتی ہے۔
وزیرِ صحت کے مطابق کابینہ نے ادویات کی قیمتوں کے معاملے پر کمیٹی قائم کر رکھی ہے جبکہ ڈریپ نے چند ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ادویات تیار ہوتی ہیں تاہم خام مال درآمد کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کئی ادویات مارکیٹ سے غائب ہو چکی ہیں اور بعض مریضوں کو دوائیں ایجنٹوں کے ذریعے دگنی قیمت پر خریدنا پڑتی ہیں، صحت کا نظام صرف اسپتال بنانے سے بہتر نہیں ہو گا بلکہ بچوں کی بروقت ویکسینیشن اور بنیادی صحت کی سہولتوں پر توجہ دینا ہو گی، 68 فیصد بچے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرے سے دو چار ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے یہ بھی کہا کہ مجھے 21 سال قبل کراچی کا میئر بنایا گیا تھا جبکہ 12 سال پہلے میں رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہوا۔
انہوں نے اس موقع پر ایک بار پھر کہا کہ خالد مقبول صدیقی ہی ہماری جماعت کے چیئرمین ہیں۔