کراچی میں 25 سالہ نوجوان میر رضا علی خان کے قتل کی تفتیش میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، مقتول کا موبائل فون حاصل کرلیا گیا۔
تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ میر رضا علی خان کا موبائل فون جائے وقوعہ سے 200 گز کے فاصلے پر ملا، جائے وقوعہ سے پستول کا ہولسٹر بھی ملا ہے، موبائل فون کا فرانزک کروایا جائے گا۔
خیال رہے کہ میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتا ہوا تھا، جس کی لاش دو روز بعد گلستان جوہر سے ملی تھی، میر رضا علی صبح چار بج کر نو منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی جبکہ اس کے سینے میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔، رضا کی لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔
پولیس کی جانب سے ٹیلی کام کمپنی سے مقتول کا فون ریکارڈ اور اس سے رابطہ رکھنے والے افراد کا ڈیٹا بھی طلب کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ رضا نے جس ٹیکسی سے سفر کیا تھا اس کے ڈرائیور کو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا ہے، ڈرائیور نے بیان میں بتایا کہ اس نے میر رضا علی کو گلستان جوہر میں اس کے کچن پر چھوڑا تھا۔
مقتول کے والد کا بتانا ہے کہ رضا کا 30اگست کو گلشن اقبال کی بیت المکرم مسجد میں نکاح تھا اور رضا اپنی نئی شروع ہونے والی زندگی کے حوالے سے بہت خوش تھا۔