برطانوی شاہی خاندان سے منحرف شہزادہ ہیری کی اہلیہ، امریکی اداکارہ میگھن مارکل کے والد تھامس مارکل کو امریکی ریاست فلوریڈا میں ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے قائم خصوصی نگہداشت مرکز منتقل کر دیا گیا۔
برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کے مطابق تھامس مارکل مبینہ طور پر بچوں سے جنسی زیادتی سے متعلق تصاویر رکھنے کے الزام میں تحقیقات کی زد میں ہیں جن سے امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارہ بھی تحقیقات کر رہا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق تھامس مارکل کی طبی تشخیص اور خصوصی مرکز منتقلی سے ان سے پوچھ گچھ اور قانونی کارروائی پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یادداشت کی بیماری میں مبتلا افراد سے پوچھ گچھ کے لیے قانونی پابندیاں موجود ہیں، اس لیے تحقیقاتی اداروں کو تھامس کا بیان ریکارڈ کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ تھامس مارکل کے خلاف یہ معاملہ گزشتہ ماہ اس وقت سامنے آیا تھا جب ان کے بیٹے تھامس مارکل جونیئر نے فلپائن کی پولیس اور امریکی تحقیقاتی ادارے سے اپنے والد کے خلاف شکایت کی تھی۔
تھامس مارکل جونیئر نے کہا تھا کہ مجھے فلپائن کے شہر سیبو میں والد کے سامان سے بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مبینہ تصاویر ملی تھیں جو میں نے حکام کے حوالے کر دیں۔
بعد ازاں میکسیکو کی ریاست باجا کیلیفورنیا میں پولیس نے تھامس مارکل کے زیرِ استعمال ایک رہائش گاہ پر چھاپہ مارا جہاں سے مبینہ طور پر مزید تصاویر، ویڈیوز اور کمپیوٹر کا سامان قبضے میں لیا گیا، یہ رہائش گاہ تھامس مارکل کے سابق گھر کے قریب واقع تھی۔
رہائش گاہ کے مالک کے مطابق تھامس مارکل نے 2024ء میں کرایہ دینا بند کر دیا تھا تاہم تھامس کا سامان اندر ہی موجود تھا، حکام نے ضبط شدہ کمپیوٹرز اور دیگر مواد کو فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا ہے۔
دوسری جانب میگھن مارکل نے اپنے والد کے خلاف الزامات پر گہرے دکھ اور پریشانی کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی والد کے خلاف سامنے آنے والے پریشان کن الزامات کے باعث میں نے اپنے والد سے تعلق ختم کر لیا تھا اور اپنے بچوں کو بھی والد سے دور رکھا تھا۔
میگھن مارکل کا کہنا ہے کہ مجھے پہلی مرتبہ 2018ء میں برطانوی حکام کو موصول ہونے والی شکایات اور میڈیا رپورٹس کے ذریعے والد کے خلاف الزامات کا علم ہوا تھا۔