فرانس میں پاکستانی سفارت خانے نے ’یومِ سیاہ کشمیر‘ کے موقع پر ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا۔
تقریب کا مقصد بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا تھا۔
اس موقع پر صدرِ پاکستان، وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے، سفیر ممتاز زہرا بلوچ نے جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے اور کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا انحصار جموں و کشمیر کے تنازع کے پُرامن حل پر ہے، جو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہو، کشمیری عوام کئی نسلوں سے عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ وہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں کیے جانے والے مظالم کے لیے جوابدہ ٹھہرائے۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء سے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اور جاری سنگین مظالم نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے اور کشمیری عوام کو مکمل طور پر بیگانہ کر دیا ہے، کشمیری عوام قابض طاقت کی جانب سے مقبوضہ علاقے کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے یا کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرنے پر متحد ہیں۔
سفیر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر مضبوط سیاسی، قانونی اور اخلاقی بنیادوں پر استوار ہے، پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو ان کے جائز مقصد کے حصول کے لیے ہر قسم کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت فراہم کرنا جاری رکھے گا۔
تقریب کے نمایاں مقررین نے بھارتی قابض افواج کی جانب سے بے گناہ کشمیری مردوں، خواتین اور بچوں کے خلاف انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔
انہوں نے عالمی برادری اور میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ بے بس کشمیریوں کی تکالیف کو اجاگر کریں اور بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں کیے جانے والے مظالم، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرائیں، تقریب میں پاکستانی تارکینِ وطن کے نمائندوں، ماہرینِ تعلیم، صحافیوں اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔
تقریب میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جموں و کشمیر سے متعلق قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت کے لیے کشمیری عوام کی 7 دہائیوں پر محیط جائز جدوجہد کو اجاگر کیا گیا۔