نئی تحقیق میں روغنِ زیتون کے خون میں گلوکوز کی سطح پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
خالی پیٹ زیتون کا تیل پینے کا رجحان سوشل میڈیا پر مقبول ہو رہا ہے، جہاں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس سے جلد کی صحت بہتر ہوتی ہے، بڑھتی عمر کے اثرات سست پڑتے ہیں اور مجموعی صحت کو فائدہ پہنچتا ہے، تاہم ان میں سے کئی دعوؤں کی تائید کے لیے مضبوط سائنسی شواہد تاحال محدود ہیں۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا کھانے سے پہلے زیتون کا تیل استعمال کرنے سے کھانے کے بعد خون میں گلوکوز کی سطح بڑھنے کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔
محققین نے چوہوں پر تجربات میں مشاہدہ کیا کہ زیتون کا تیل معدے سے گلوکوز کے چھوٹی آنت میں منتقل ہونے کے عمل کو سست کرتا دکھائی دیا، جس کے نتیجے میں خون میں شکر کی سطح میں ابتدائی تیزی سے اضافے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
طبی جریدے ڈائبیٹیس (Diabetes) میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے نتائج غذائی چکنائی، آنتوں کے ہارمونز اور اعصابی نظام کے درمیان ممکنہ تعلق کی نشاندہی کرتے ہیں، چونکہ اس تحقیق کا بنیادی تجربہ چوہوں پر کیا گیا، اس لیے اس کے نتائج کو براہِ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
زیتون کا تیل بلڈ شوگر کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
تحقیق کے دوران محققین نے چوہوں کو گلوکوز دینے سے 15 منٹ پہلے زیتون کا تیل پلایا، اس کے نتائج کا موازنہ ان چوہوں سے کیا گیا جنہیں گلوکوز دینے سے پہلے پانی پلایا گیا تھا، جبکہ تیسرے گروہ کو گلوکوز دینے کے بعد زیتون کا تیل دیا گیا۔
جن چوہوں نے گلوکوز لینے سے پہلے زیتون کا تیل استعمال کیا، ان کے خون میں شکر کی سطح نسبتاً کم بڑھی، محققین نے معدے کے خالی ہونے کے عمل میں سستی بھی نوٹ کی، اس عمل کے دوران غذا معدے سے چھوٹی آنت میں منتقل ہوتی ہے۔
ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار چوہوں اور انسولین کی شدید کمی والے چوہوں میں بھی اسی طرح کے اثرات دیکھے گئے۔
محققین نے آنتوں کے ہارمونز میں تبدیلیاں بھی ریکارڈ کیں، جن میں گلوکاگون، گلوکوز پر منحصر انسولین خارج کرنے والے پولی پیپٹائڈ (GIP) اور گلوکاگون نما پیپٹائڈ-1 (GLP-1) شامل ہیں، یہ تبدیلیاں زیتون کا تیل استعمال کرنے کے 15 سے 30 منٹ کے اندر ظاہر ہوئیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور جاپان کی کیوتو یونیورسٹی کے پروفیسر کے مطابق غذائی اجزا کے آنتوں تک پہنچنے کی ترتیب ہارمونز اور اعصابی نظام کے درمیان مربوط ردِعمل کو متحرک کر سکتی ہے، جس سے گلوکوز کی خون میں شامل ہونے کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔
گلوکوز کی منتقلی سست ہونے سے کھانے کے بعد خون میں شکر کی سطح ابتدائی طور پر آہستہ بڑھ سکتی ہے، تاہم اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ جسم مجموعی طور پر گلوکوز کم جذب کرتا ہے۔
انسانوں پر ہونے والی تحقیق کیا بتاتی ہے؟
انسانوں پر کی گئی چند محدود تحقیقات میں بھی اسی نوعیت کے اثرات سامنے آئے ہیں، تاہم مجموعی سائنسی شواہد ابھی ناکافی ہیں۔
ماہرِ غذائیت جینیفر پیلیئن نے ایک چھوٹی تحقیق کا حوالہ دیا ہے، جس میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے شکار 6 مردوں نے کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور کھانے سے 30 منٹ پہلے 30 ملی لیٹر زیتون کا تیل استعمال کیا۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ زیتون کا تیل پہلے استعمال کرنے سے معدہ خالی ہونے کا عمل سست ہوا، خون میں گلوکوز کی سطح میں اضافے میں تاخیر ہوئی اور GLP-1 ہارمون کی سطح میں اضافہ ہوا، اس کے برعکس، پانی پینے یا کھانے کے ساتھ زیتون کا تیل استعمال کرنے والے افراد میں یہی اثرات مختلف تھے۔
یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ کھانے کی ترتیب خون میں شکر کی سطح پر اثر انداز ہو سکتی ہے، تاہم محدود شرکاء پر کی گئی تحقیقات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان اثرات کے نتیجے میں طویل مدت میں صحت کو نمایاں فائدہ بھی پہنچتا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس تحقیق سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کھانے سے پہلے زیتون کا تیل پینا ذیابیطس کا مستند علاج ہے یا بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنے کا قابلِ اعتماد طریقہ ہے۔
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے، صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔