فرانس میں شمونڈا نامی وائرس سے متاثرہ ایک شخص کی موت کا پہلا انسانی کیس رپورٹ ہونے کے بعد انسانوں کے لیے اس وائرس کے خطرات سے متعلق سوالات اٹھنے لگے۔
فرانسیسی حکام کے مطابق یہ وائرس مویشیوں میں پایا جاتا ہے اور کئی دہائیوں قبل نائجیریا میں پہلی بار سامنے آیا تھا تاہم رواں سال یہ یورپ میں بھی پھیل چکا ہے۔
فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص اسپتال میں سنگین بیماری کا علاج کروا رہا تھا اور اس کا مدافعتی نظام شدید کمزور تھا، حکام کو شبہ ہے کہ وہ مشرقی فرانس میں ایک چھوٹے کاٹنے والے کیڑے کے ذریعے وائرس کا شکار ہوا جہاں رواں سال مویشیوں میں اس وائرس کی موجودگی سامنے آئی تھی۔
حکام کے مطابق مریض کے دماغ میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کا تعلق غالباً شمونڈا وائرس سے تھا تاہم موت اور انفیکشن کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کی وضاحت
اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دستیاب معلومات اور اس سے ملتے جلتے وائرسز کی منتقلی کے طریقوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ ایک انفرادی انسانی کیس معلوم ہوتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ فی الحال اس وائرس کے وسیع پیمانے پر انسانوں میں پھیلنے کا امکان کم ہے۔