ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے نائب کمانڈر علی محمدی نے کہا ہے کہ ایرانی فورسز آبنائے ہرمز میں ہر رات ان جہازوں کے خلاف کارروائیاں کرتی ہیں جنہیں تہران اپنے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والا سمجھتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس سے گفتگو کرتے ہوئے علی محمدی نے کہا کہ جنگ کے پہلے روز سے آبنائے ہرمز کی مکمل نگرانی کی جا رہی ہے اور جارحانہ و دفاعی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور میڈیا کی جانب سے آبنائے ہرمز سے روزانہ 30 لاکھ سے 80 لاکھ بیرل تیل گزرنے کے اعداد و شمار کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض قیاس آرائیاں ہیں جن کا مقصد تیل کی قیمتیں کم کرنا اور عالمی منڈی پر اثر انداز ہونا ہے۔
علی محمدی نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی مقام پر قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کر رہا ہے، صدر ٹرمپ نے 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہ کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔
ادھر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کو لاحق خطرات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 104.28 ڈالرز فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 91.49 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ واشنگٹن ایرانی تیل کی فروخت میں مدد فراہم کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔
امریکی محکمۂ خزانہ نے اس سلسلے میں 27 کمپنیوں، 6 افراد اور 22 بحری جہازوں پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔