نیشنل ہیلتھ سروس نے انگلینڈ بھر کے اسپتالوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں مارتھا رولز کی توسیع کر دی ہے، یہ قواعد مارتھا ملز کے والدین کی طرف سے طویل مہم کے بعد نافذ کیے گئے ہیں۔
13 سالہ مارتھا 2021ء میں کنگز کالج لندن ہاسپٹل این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ میں سیپسس میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئی تھی، دورانِ علاج اس کے والدین کے تحفظات کو نظرِ انداز کیا گیا تھا۔
کورونر کے مطابق مارتھا کو بروقت انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں منتقل کرنے کی صورت میں اس کی جان بچ سکتی تھی۔
مارتھا رولز کے تحت مریض کی صحت کے حوالے سے تحفظات پر خاندان کے افراد یا عملے کے ارکان ایک مخصوص فون نمبر پر کال کر کے مزید تشخیص کے لیے رجوع کر سکیں گے۔
این ایچ ایس انگلینڈ کے مطابق مارتھا رولز کے پائلٹ پروجیکٹ کو 7 ٹرسٹوں میں چلایا گیا، 8 ماہ کے آزمائشی عرصے میں مارتھا رولز کے فون نمبر پر 69 کالز کی گئیں، جن کے باعث بعض مریضوں کی ارجنٹ سرجری کی گئی اور بعض کو انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں منتقل کیا گیا۔
ان قواعد کا مکمل اطلاق مارچ 2028ء تک مکمل ہو گا، اسکاٹ لینڈ مارتھا رولز کا اطلاق کر رہا ہے، ناردرن آئرلینڈ اس پر غور کر رہا ہے، جبکہ ویلز میں ’کال فار کنسرن‘ کے نام سے پہلے ہی ایسی سہولت موجود ہے۔