مساجد و ائمہ بورڈ نے سعودی عرب پر ہونے والے مبینہ حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے مکہ مکرمہ کے اطراف میں سیکیورٹی الرٹس اور خطرے کے سائرن بجائے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بورڈ نے کہا ہے کہ خطے میں پہلے ہی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایسے واقعات نہایت تشویش ناک ہیں اور ان سے مزید عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
مساجد و ائمہ بورڈ کے اجلاس میں کہا گیا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس اور روحانی اہمیت کے حامل شہر ہیں، اس لیے ان مقدس مقامات، نمازیوں، زائرین اور حجاج کرام کی سلامتی کو لاحق کسی بھی خطرے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
امام قاری محمد عاصم نے کہا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں خطرے کے سائرن بجنا پوری مسلم امہ کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہوگا۔
ان کے مطابق یہ مقدس شہر سیاسی تنازعات اور کشمکش سے محفوظ رہتے ہوئے امن، عبادت اور سلامتی کے مراکز ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ نازک صورتحال مسلم امہ کے اندر مزید تقسیم کا باعث نہیں بننی چاہیے، بلکہ مسلم حکومتوں، سیاسی تحریکوں اور مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان اختلافات کو مکالمے، سفارت کاری اور پُرامن ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
بورڈ نے تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل اور ضبط کا مظاہرہ کرنے، شہریوں اور مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانے اور کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ سفارتی اور مواصلاتی ذرائع استعمال کرنے کی اپیل کی۔
بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب، یمن یا خطے کے کسی بھی دوسرے حصے میں عام شہریوں کی مشکلات اور انسانی جانوں کا نقصان نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ مسلم دنیا کو مزید انتقامی کارروائیوں کے بجائے رابطے، افہام و تفہیم، مکالمے اور مفاہمت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
مساجد و ائمہ بورڈ نے مسلم رہنماؤں، علماء اور دینی و سماجی اداروں پر بھی زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور سیاسی و مسلکی اختلافات کے باوجود مکالمے کے عمل کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ اختلافات کے حل کے لیے نبوی منہج کی روشنی میں تقسیم کے بجائے مکالمہ، کشیدگی کے بجائے سفارت کاری اور تنازع کے بجائے امن کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
بورڈ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت، سلامتی اور تقدس کا تحفظ پوری مسلم امہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔