غزہ میں اسرائیلی حملوں سے متاثرہ 6 منزلہ عمارت گرنے سے 5 بچوں سمیت 11 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں لاپتہ ہو گئے۔
غزہ سول ڈیفنس کے مطابق مغربی غزہ میں گرنے والے عمارت کے ملبے تلے 50 سے زائد بچوں سمیت تقریباً 100 افراد دبے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں، تاہم بھاری مشینری نہ ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔
غزہ میں آج صبح گرنے والی عمارت اسرائیلی حملوں کی وجہ سے شدید خستہ حالی کا شکار تھی۔
عمارت کا ملبہ قریبی گھروں اور بے گھر افراد کے خیموں پر جا گرا، جس کی وجہ سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا، عمارت میں بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے۔
غزہ میں مسلسل بمباری اور ناکہ بندی کے باعث ہزاروں کمزور اور نیم تباہ شدہ عمارتیں رہائش کے لیے انتہائی خطرناک ہو چکی ہیں، لیکن شہریوں کے پاس کہیں اور جانے کا راستہ نہ ہونے کے سبب وہ انہی میں رہنے پر مجبور ہیں۔
غزہ سرکاری انفارمیشن آفس نے رہائشی عمارت گرنے کا ذمہ دار اسرائیل اور عالمی برادری کو قرار دے دیا۔
جاری بیان میں غزہ سرکاری انفارمیشن آفس نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ سے اسرائیلی محاصرہ فوری ختم کرائیں، غزہ میں ہزاروں خستہ حال عمارتوں کا کسی بھی لمحے گرنے کا خطرہ ہے۔
غزہ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ملبے سے نکالے گئے زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی رومز میں آپریشن کے بنیادی آلات اور اینستھیزیا کا اسٹاک مکمل ختم ہوچکا ہے۔
وزارت صحت نے کہا ہے کہ عالمی برادری غزہ میں ایندھن، طبی سامان کی فوری فراہمی کی اجازت کے لیے اقدامات کرے، صرف زبانی مذمتیں کافی نہیں ہیں، محاصرہ ختم کر کے فوری طور پر محفوظ انسانی امدادی راہداریاں قائم کی جائیں۔