سابق بالی ووڈ اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کی منیجر دیشا سالیان کی موت کے کیس میں اجتماعی زیادتی اور قتل کے الزام کے بعد ایف آئی آر میں سابق وزیرِ اعلیٰ کا نام بھی سامنے آ گیا۔
سوشانت سنگھ راجپوت کی منیجر دیشا سالیان کی 2020ء میں ہونے والی موت کے معاملے پر مرکزی تحقیقاتی ادارے (سی بی آئی) نے حال ہی میں ایف آئی آر درج کی تھی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق سی بی آئی کی ایف آئی آر میں قتل، اجتماعی زیادتی، مجرمانہ سازش، شواہد ضائع کرنے اور غلط معلومات فراہم کرنے سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر میں متعدد معروف شخصیات کے نام شامل ہیں، جن کے مبینہ کردار کی تحقیقات کی جائیں گی، ان میں شیوسینا (یو بی ٹی) رہنما آدتیہ ٹھاکرے، اداکارہ ریا چکرورتی، اداکار ڈینو موریا اور سورج پنچولی شامل ہیں۔
بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ایف آئی آر میں سابق وزیرِ اعلیٰ مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے، سابق ریاستی وزیر داخلہ انیل دیشمکھ، ریا چکرورتی کے بھائی شووک چکرورتی، سابق ممبئی پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ اور سابق پولیس افسر سچن وازے کے نام بھی شامل ہیں۔
ایف آئی آر میں مبینہ طور پر ایک ’جھوٹی خودکشی کی کہانی‘ تیار کرنے اور اسے فروغ دینے، جبکہ شواہد کو دبانے، ضائع کرنے یا ان میں رد و بدل کرنے کی مبینہ سازش کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
کیس میں دیشا سالیان کے پوسٹ مارٹم میں شامل پولیس افسران، فرانزک حکام، ڈاکٹروں اور عملے، رہائشی عمارت کے سیکیورٹی اہلکاروں اور بعد میں تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم کے ارکان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
دیشا سالیان کے والد ستیش سالیان کے وکیل نلیش اوجھا نے میڈیا سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ دیشا کو اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اور بعد میں ان کی موت کو خودکشی کا رنگ دیا گیا۔
وکیل نے آدتیہ ٹھاکرے پر بچوں کے ساتھ مبینہ زیادتی میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا اور دعویٰ کیا کہ دیشا کے پاس اس مبینہ زیادتی سے متعلق ویڈیو شواہد موجود تھے۔
نلیش اوجھا کے مطابق دیشا نے مبینہ طور پر یہ ویڈیوز سوشانت سنگھ راجپوت کو بھیجی تھیں، جنہوں نے انہیں ریا چکرورتی کے ساتھ شیئر کیا، یہ مواد بعد میں آدتیہ ٹھاکرے تک پہنچا۔
وکیل نے الزام عائد کیا کہ مبینہ شواہد کی وجہ سے دیشا سالیان اور سوشانت سنگھ راجپوت کو قتل کیا گیا۔
واضح رہے کہ بھارتی عدالت نے سی بی آئی کو دیشا سالیان کی موت کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ممبئی پولیس کی جانب سے تقریباً 6 سال تک ایف آئی آر درج نہ کرنے پر سوالات اٹھائے تھے۔
عدالت نے کیس کو طویل عرصے تک حادثاتی موت قرار دیے جانے پر بھی سوال اٹھایا اور تحقیقات میں ’واضح تضادات‘ کی نشاندہی کی۔
ڈشا سالیان 8 جون 2020ء کو ممبئی کے علاقے مالاد میں ایک رہائشی عمارت کی 12 ویں منزل سے گر کر ہلاک ہوئی تھیں، ممبئی پولیس نے بعد ازاں حادثاتی موت کی رپورٹ درج کی تھی۔
واقعے کے 6 روز بعد 14 جون 2020ء کو سوشانت سنگھ راجپوت بھی ممبئی میں اپنی رہائش گاہ پر مردہ پائے گئے تھے، جس کے بعد دونوں واقعات کے درمیان ممکنہ تعلق کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں۔