ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ایران اور خلیجی ممالک کی عمان میں ملاقات نہ ہونے پر اصرار کیا ہے۔
تہران میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی میں جیت صرف اسرائیل کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے فروری میں ایران کے خلاف جنگ شروع کر کے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا، اس جنگ میں ہزاروں شہری شہید ہوئے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے فضائی حملوں میں جاں بحق ہونے والے متعدد ایرانیوں کے نام بھی گنوائے، جن میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو ایک فٹ بال گراؤنڈ میں حملے کے دوران مارے گئے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صہیونی دشمن نے حملوں کے دوران کلسٹر بموں کا استعمال کیا، جو تمام انسانی معیار و اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی بحری جہاز پر حملہ، زخمیوں میں پاکستانی شہری بھی شامل
اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا نے ایرانی جزہرے ہنگام کے نزدیک ایرانی تجارتی بحری جہاز پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 1 شخص جاں بحق، جبکہ 2 پاکستانیوں سمیت کئی افراد زخمی ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے والے افراد بحری جہاز پر کام کر رہے تھے۔ امریکا اور اسرائیل خلیجِ فارس میں سلامتی کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔
حوثیوں کی حالیہ کارروائیوں میں ایران کا کوئی کردار نہیں ہے
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران یمن کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور یمن میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک یمن میں جاری واقعات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے متعلق پالیسی بیرونی قوتوں کے حکم پر نہیں ہو گی
اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ عمان اور ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق ذمے دارانہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کے لیے مشترکہ فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج مسقط میں خلیجی ممالک کے حکام کے ساتھ طے شدہ اجلاس ان فیصلوں کی اہمیت واضح کرنے کا ایک موقع تھا، تاہم یمن میں رونما ہونے والے واقعات کے باعث یہ اجلاس منسوخ کر دیا گیا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ اگر یہ اجلاس منعقد ہوتا تو نئی پالیسی پر بات چیت کے لیے یہ ایک نہایت موزوں موقع ہوتا، میرا نہیں خیال کہ کوئی بھی ذمے دار ملک کسی بھی شکل، طریقے یا صورت میں یہ قبول کرے گا کہ اسے بیرونی قوتوں کی جانب سے کوئی پالیسی مسلط کی جائے یا اس پر دباؤ ڈالا جائے۔
کوہ کلنگ میں جوہری سرگرمیوں کی اطلاعات غلط ہیں
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے پیک ایکس ماؤنٹین میں جوہری سرگرمیوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے امریکا کے دعوے بے بنیاد ہیں۔
بقائی نے کہا کہ یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ پیک ایکس ماؤنٹین کے اندر جوہری تنصیبات موجود ہیں، اس حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس واشنگٹن کی جانب سے جاری کی جانے والی میڈیا اور نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں۔