اسرائیلی وزیرِ ثقافت مکی زوہر نے فلسطینیوں کے قتلِ عام پر بننے والی دستاویزی فلم ’نازا‘ کے اسرائیلی ہدایت کاروں کو غدار قرار دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مکی زوہر نے کہا ہے کہ فلم ساز یووال ابراہم اور ریچل زور کی اسرائیلی شہریت منسوخ کرنے کے لیے کارروائی کریں گے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ ثقافت نے فلم کی کامیابی کو حیران کن اور دستاویزی فلم کو گھناؤنا قرار دیا۔
انہوں نے فلم سازوں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے بیرونِ ملک داد و تحسین حاصل کرنے کے لیے اپنے ملک کو نقصان پہنچایا، یہ اقدامات ریاست سے غداری کے زمرے میں آتے ہیں۔
اسرائیلی وزیر نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ میں نے سنیما کے شعبے میں اہم اصلاحات کی قیادت کی، تاکہ اسرائیلی شہریوں کو اپنی جیب سے اسرائیلی فوجی اہلکاروں اور ریاستِ اسرائیل کو پہنچنے والے نقصان کی قیمت ادا نہ کرنی پڑے۔
مکی زوہر نے کہا کہ وزیرِ ثقافت کی حیثیت سے میں ان قابلِ مذمت فلم سازوں کی ریاست سے غداری کے جرم میں اسرائیلی شہریت فوری طور پر منسوخ کرنے کے لیے کارروائی کروں گا۔
واضح رہے کہ وینس فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری ایوارڈ جیتنے والی دستاویزی فلم ’نازا‘ میں غزہ میں فلسطینی شہریوں کے قتل کا جائزہ لیا گیا ہے، جبکہ اس میں اسرائیلی فوجیوں اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی گواہیاں بھی شامل ہیں۔
غزہ کے شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق اس دستاویزی فلم کو وینس فلم فیسٹیول میں نمائش کے دوران 25 منٹ تک کھڑے ہو کر داد دی گئی تھی۔